88

ڈیم کے لیے مختص رقم میں سے 300 ارب کی کرپشن کی نظر

اسلام آباد: سینیٹ خصوصی کمیٹی برائے قلت آب اجلاس سینیٹر مولابخش چانڈیو کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ مہمند ڈیم کے لئے مختص رقم میں سے 304ارب روپے کرپشن کی نذر ہوئے ہیں۔
کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے سیکٹری واٹر ریسورس شمائل خواجہ نے بتایااس وقت ملک بھر مین 138ایکڑ فٹ ہے اپک بھارت معاہدے کے تحت پاکستان کے پاس اس وقت دو دریاجبکہ انڈیاکے پاس تین دریاہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت پانی کی مقدار دس فی صد جبکہ دنیابھر میںیہ مقدار 40فی صد ہوتی ہے ملک میںپانی کاذخیرہ 35دن جبکہ دنیابھر یہ ذخیرہ 120 دن کاہوتاہے ملک میںپہلی واٹر پالیسی 1980میں بنی۔
سیکرٹری واٹر ریسورس نے انکشاف کیاکہ سال دو ہزار میں پبلک سیکٹر دویلپمنٹ پروگرام کا12سے 17فیصد رکھاگیابعد میں کم کر کے 3.7فیصدتک کر دیاگیا،انہوںنے کہاکہ ڈیم نہ ہونیکی وجہ سے بہت زیادہ ضائع کیا جا رہا ہے اس وقت 50فی صد پانی زراعت، جبکہ 0.95فی صد انڈسٹری کیلئے استعمال ہو رہاہے جبکہ دنیابھر میںزراعت کیلئے 70فی صد اور باقی انڈسٹری کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ بدین ، تھر کو آفت زدہ قرار دیا گیاہے کیونکہ وہاںپانی نہیں ہے۔
علاوہ ازیں سینٹ قائمہ کمیٹی مواصلات میں نو تعمیر ہزارہ موٹر وے کے بعض سیکشن ناقص کام کے باعث زمین میں دھنس جانے کاانکشاف ہواہے جس پر قائمہ کمیٹی نے سب کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کی جانب سے سی پیک کے مغر بی روٹ پر مقررہ وقت پر کام شروع نہ کیے جانے پر برہمی کااظہارکیاگیا۔
واضح رہے کہ ملک میں پانی کی شدید قلت کے باعث بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، اسی بحران سے نکلنے کیلئے سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ قائم کیا ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگ رقم جمع کروا رہے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری خزانے سے کرپشن کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں