کون سے عوامل خود اعتمادی کیلیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں؟

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی انسان میں خود اعتمادی 20 سال کے بعد پروان چڑھتی ہے۔
لیکن سوئٹزرلینڈ میں واقع یونیورسٹی آف برن کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ کوئی بھی شخص عمر کے کس دور میں زیادہ پراعتماد ہوتا ہے اور خوشخبری یہ ہے کہ خود اعتمادی کا عروج عشروں بعد آتا ہے۔
جرنل سائیکلوجیکل بلیٹن میں شائع شدہ اس مطالعے میں خود اعتمادی پر مبنی 191 آرٹیکلز کا تجزیہ کیا گیا جس میں 1 لاکھ 65 ہزار افراد نے حصہ لیا۔
محققین کے مطابق نوعمری کے سالوں (11 سے 15 سالوں کے درمیان) انسان میں خود اعتمادی بڑھتی جاتی ہے۔
محققیق نے دریافت کیا کہ انسان میں خود اعتمادی کی سطح درمیانی عمر کے دوران ایک بار پھر بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور خود اعتمادی کا عروج 60 سال کی عمر میں سب سے زیادہ رہتا ہے جبکہ کچھ افراد میں 70 سے 80 سال تک خود اعمادی قائم رہتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف برن کے پروفیسر الرچ آرتھ کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے اور کرداروں کے تبدیل ہونے سے خود اعتمادی میں معمولی کمی واقع ہوتی ہے، عمر میں اضافہ اور ریٹائرمنٹ جیسے عوامل بھی خود اعتمادی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر الرچ آرتھ کے مطابق اگرچہ بڑھاپے میں خود اعتمادی میں کمی کا خیال افسردہ کن ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ صرف تھوڑی سی کمی ہے۔
ڈاکٹر آرتھ کا ماننا ہے کہ زیادہ تر لوگ 90 کی دہائی تک اور اس سے آگے بھی خود اعتمادی کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں