ورچوئل یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں بے ضابطگیاں عروج پر

لاہور: نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کرنے اور انہیں اصول پسندی سکھانے والے تعلیمی ادارے ورچوئل یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر تقریریوں میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق  ڈائریکٹر ایڈمن احمر قاضی  اور ڈائریکٹر کیمپس فرحان صادق  کی تقرری بھی خلاف قانون کی گئی۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈائریکٹر کیمپس مافیا کا روپ دھار چکے اسی وجہ سے یونیورسٹی ملازمین کا مستقل سروس سٹرکچر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی دو افسران ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریکٹر کا چارج بھی یونیورسٹی آرڈینینس کے خلاف دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل یونیورسٹی میں تقرریوں پر بے ضابطگیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور حالیہ ہونے والے بھرتیوں میں بڑے عہدوں پر براجمان افراد نے اپنی مرضی کی شارٹ لسٹنگ کی ہے اور کئی اہل امیدواروں کو شارٹ لسٹ ہی نہیں کیا گیا  وجہ یہ ہے کہ یہاں مافیا کا راج ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سارے عمل میں ڈائریکٹر ایڈمن احمر قاضی  اور ڈائریکٹر کیمپس فرحان صادق ہیں نمایاں کردار ادا
کررہے ہیں-

باوثوق ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق مذکورہ افسران اپنے عہدوں کے لئے نا اہل ہیں اور ان کی تقرری ورچوئل یونیورسٹی کے  سروس رولز کے خلاف ہے۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل یونیورسٹی کے سروس رولز کے مطابق  ڈائریکٹر ایڈمن کے لئے ایم پی اے یا ایم بی اے کی ڈگری اور دس سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے مگر احمر قاضی جو اس وقت  ڈائریکٹر ایڈمن ہیں ان کے  پاس بی ایس ایگریکلچر کی ڈگری ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں مطلوبہ ڈگریوں کے حامل افراد کی کثرت کے باوجود ایک نا اہل شخص کو کیوں نوازا گیا؟ اہل افراد کا حق کیوں مارا گیا ؟ کون لوگ اس کی تقرری میں ملوث ہیں ؟ کیا وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے سامنے قانون کی بھی کوئی اہمیت نہیں؟
ورچوئل یونیورسٹی میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈائریکٹر ایڈمن جس کی تقرری غیر قانونی ہے وہ میرٹ پہ بھرتیاں کیسے کرے گا؟ کیونکہ یونیورسٹی میں ہائیرنگ اتھارٹی  ڈائریکٹر ایڈمن ہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ورچوئل یونیورسٹی کے  سروس رولز کے  مطابق ڈائریکٹر کیمپس کے لئے ایم بے اے ، ہیومین ریسورس کی ڈگری اور دس سال سینیر مینیجمنٹ میں کام کرنے کا تجربہ اور پانچ سال ایک ریجن کو میجیج کرنے کا تجربہ ہونا چایئے ۔موجودہ ڈائریکٹر کیمپس  فرحان صاق کے پاس ایم بی اے یا مساوی  ڈگری تو ہے مگر  سینیر مینیجمنٹ میں کام کرنے کا  ایک دن کا بھی تجربہ  نہیں ہے ۔ اسی طرح انہوں نے زندگی میں کبھی کسی ریجن کو مینیج نہیں کیا ۔ یہ صاحب بھی یونیورسٹی میں لابنگ کرتے کرتے مافیا بن کر ڈائریکٹر کیمپس کی سیٹ پر براجمان ہو گئے۔ یونیورسٹی میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ان افراد نے یونیورسٹی کے تمام کیمپسز کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان دونوں افسران کی ضد یہ ہے کہ پہلے ان کا سکیل ریوائز کرکے بہتر کیا جائے تو پھر وہ ملازمین کے مستقل سروس سٹرکچر کو ڈرافٹ کرکے منظوری کے لئے پیش کریں گے ۔ ملازمین کے مستقل سروس سٹرکچر کے لئے جو کمیٹی بنی اس میں یہ حضرات یہ پھڈا ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ملازمیں بے چارے رل گئے ۔ 18 سال ہوگئے مگر ابھی تک ملازمین کے مستقل سروس سٹرکچر نہیں بن سکا ۔جس میں آجکل سب سے بڑی رکاوٹ ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈائریکٹر کیمپس ہیں
حکومت پاکستان جو کہ  میرٹ اور انصاف کا دعوی کرتی ہے اسے اپنے ایک اہم علمی ادارے میں ہونے والی مافیا گردی کا نوٹس لینا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے ان کی غیر قانونی تقرریوں کے خلاف شفاف انکوائری کی جائے۔ ان کی تقرریوں کو منسوخ کرکے ان سے عوامی دولت ریکور کی جائے  اور انکا تقرر کرنے والے مافیا کے سر پرستوں قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ ملک کی واحد یونیورسٹی جہاں کبھی میرٹ کا بول بالا ہوا کرتا تھا اب بے ضابطگیوں کا گڑھ بن چکی ہے ۔ ارباب اختیار کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں