امریکا کو افغانستان سے بھاگنے کی جلدی

بشیر سدوزئی ۔

افغانستان اس وقت شدید سیاسی عدم استحکام اور انتظامی بحران سے دوچار ہے مگر امریکہ نے طالبان سے امن معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے فوج کا انخلاء شروع کر دیا ہے اور کہا کہ اس کا مقصد ملک میں امن قائم کرنا ہے۔ اس کے باوجود کہ امریکہ جانتا ہے کہ موجودہ صورت حال میں افغانستان میں امن نہیں خانہ جنگی کا خطرہ پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے ۔ امریکہ نے 19 سال میں سیاست کی بساط پر بہان متی کا جو کنبہ جوڑا تھا اس میں ابھی سے دراڑیں پڑھ چکی اور طالبان کے آنے سے قبل ہی کابل کے ایوانوں کے مکین دست و گریباں ہیں ۔ پیر 9 مارچ 2020 کو دو علحیدہ تقاریب میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے آئندہ مدت کے لئے صدارت کا حلف اٹھایا ۔یہ شاید دنیا میں پہلی مثال ہو گی کہ ایک ملک کے بیک وقت دو صدر ہوں گے جو حلف یافتہ ہیں ۔اس سے قبل امریکی نمائندے نے بہت کوشش کی کہ اقتدار میں شراکت داری کا کوئی فارمولا طہ پائے مگر ایسا ممکن نہ ہوا تو امریکہ نے اپنے اتحادیوں سمیت اپنا وزن اشرف غنی کے پلڑے میں ڈال دیا، اس صورت حال میں گو کہ دنیا اشرف غنی کو ہی صدر تسلیم کرے گی مگر عبداللہ عبداللہ نے حلف اٹھا کر خود کو صدر ہونے کا اعلان کر دیا ۔ افغانستان کے معروضی حالات سے واقف کار یہ بات جانتے ہیں کہ اتحادی افواج کو نکال دیا جائے تو افغان معاشرے میں آج بھی حکومت کی کوئی حثیت باقی نہیں رہا جاتی ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی 2400 فوجی ہلاک اور 1000 سے زیادہ طالبان کی قید اور 10 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امن قائم کرنے یا وہ مقاصد جو حاصل کرنے کے لئے وہ 2001ء میں آئے تھے بری طرح ناکام رہے دوتہاہی افغانستان پر آج بھی طالبان کا کنٹرول ہے۔ اب امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے تو اشرف غنی کی حکومت کو دنیا تسلیم بھی کر لئے تب بھی وہ حکومت چلانے کے لئے کیا اقدامات کر سکتا ہے جب کہ اتحادی فوج بھی نہیں ہو گی۔ عبداللہ عبداللہ نے شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر اشرف غنی کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی تو یہ ممکن نہیں کہ اشرف غنی محل سے بھی بائر نکل سکے جب کہ طالبان بھی افغانستان میں داخل ہونے اور امارات قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان حالات میں افغانستان میں ایسا خون خرابے کا اندیشہ ہے کہ تاریخ نے اس سے قبل شاید ہی دیکھا ہو۔ موجودہ صورت حال میں ضرورت ہے کہ افغانستان میں وسیع البنیاد قومی حکومت قائم ہو یا 2001ء میں طالبان کی حکومت کی حثیت کو بحال کیا جائے جب افغانستان میں مثالی امن قائم تھا ۔ ورنہ اتحادی افواج افغانستان میں موجود رہے تاکہ مقامی فوج اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کی مدد کی جا سکے مگر لگتا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی ایسی جلدی ہے کہ 1980 کی دہائی میں سویت یونین کو بھی ایسی نہیں تھی۔ گو کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق، 135 دن میں فوج کو 12 ہزار سے کم کرکے 8600 کرنا ہے مگر معائدے کے وقت اور آج کی صورت حال میں بہت تبدیلی آئی ہے اس کے باوجود امریکہ نے فوجوں کا انخلاء شروع کر دیا ہے جو 29 فروری کو ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی ایک شرط تھی۔افغان حکومت اس معاہدے میں شریک نہیں ہوئی تھی ۔ معائدے کے فوری بعد بھارت کی آشیرباد سے اشرف غنی نے کچھ ایسی باتیں کی تھی جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ معائدہ عملدرآمد شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے گا مگر فوجوں کے انخلاء کے امریکی اعلان کے بعد اندازہ ہو رہا ہے کہ اس کو افغانستان کی اندرونی صورت حال سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی بس وہ یہ چاہتا ہے کہ عزت کے ساتھ اس کی جان چھوٹ جائے اور بظاہر یہ عزت اس کو معائدے پر عملدرآمد میں لگتی ہے یقینا بھارت کو اس صورت حال میں شدید پریشانی کا سامنا ہو گا جس کو افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اسی بنا بھارت کے نمائندے نے 19 فروری کے فوری بعد کابل کا دورہ کیا تھا جس کے بعد اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کو 10 مارچ سے قبل نہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ لیکن طالبان نے امریکہ کو یہ سہولت دی ہے کہ اشرف غنی کے اعلان کے باوجود اتحادی افواج پر ابھی تک کوئی حملہ نہیں ہوا حالانکہ چند دن قبل افغان فوج پر ایک بڑا حملہ آور حلف برداری کے روز کابل پر راکٹ برسانے کا عمل جاری رہا۔ امریکہ یہ کہہ سکتا ہے کہ طالبان نے اس کی افواج پر کسی قسم کا حملہ نہ کر کے معائدے پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے لہذا وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ صدر اشرف غنی نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کرے گا جو معائدے کا حصہ ہے 9 مارچ کو دوسری مدت کے لیے صدر کے عہد کا حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا کہ رواں ہفتے کم از کم ایک ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کی جائے گی یہ سطور لکھے جانے تک اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔ افغانستان کے حالات پر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام اشرف غنی کی کمزوری کا مظہر ہے اگر وہ انتظامی طور پر مضبوط ہوتا تو طالبان قیدیوں کو کسی مذاکرات کے بغیر رہا نہ کرتا جیسا کہ پہلے انہوں نے اعلان کیا تھا ۔ اتحادیوں نے افغانستان سے 14 ماہ کے اندر تمام فوج نکالنے کی یقین دہانی تو کرائی لیکن معاہدے کے تحت عسکریت پسندوں نے حملوں سے باز رہنے کی یقین دہانی اور القاعدہ یا کسی اور شدت پسند گروہ کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں آپریشن کرنے کی اجازت نہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ جو اتحادیوں کی جانب سے طالبان کو بطور ریاستی طاقت تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔جب افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز ہوا، اسی وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے اور فریقین نے مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔ متنازع انتخابات کے بعد دو مختلف سیاستدانوں کے لیے الگ الگ حلف برداری کی تقریبات کے انعقاد سے نئی سیاسی دشمنی جو 9 فروری سے شروع ہو رہی ہے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کے مؤقف کو بری طرح متاثر کرے گی۔اب یہ مشکل مرحلہ شروع ہو گا کہ طالبان کس کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ ۔ ایسی صورت حال میں افغانستان میں بدترین خانہ جنگی کا خطرہ ہے جو افغان حکومت، شمالی اتحاد، طالبان اور دیگر شدد پسند اسلامی گروپوں کے درمیان ہو گی اور امریکہ چاتا ہے کہ وہ جلد از جلد افغانستان سے نکل جائے ایسا نہ ہو کہ اس خانہ جنگی کی دلدل اتحاد فوج کے پاوں کی زنجیر بن جائے۔ گزشتہ 19 برسوں کی طرح افغانستان اتحادیوں کا قبرستان بنتا رہے اور ہاتھ میں بھی کچھ نہ آئے ۔ 19 سال کی اس جنگ میں کامیابی کس کی ہوئی کون جیتا کون ہارا اس پر تو ابھی تبصرہ مناسب نہیں مگر دنیا کی تمام طاقت ور قوتوں نے افغانیوں کے ساتھ جنگ میں سبق تو خوب پڑھا ہو گا۔وہ یا ان میں سے کوئی بھی طاقت کے غرور میں افغانستان پر شب خون مارنے کی غلطی آئندہ نہیں کرے گا ۔ جب کہ بھارت چند سال پہلے تک جو شادیانے بجا رہا تھا وہ ٹھنڈے ہو رہے ہیں کیوں کہ طالبان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا مگر ہندو انتہا پسند ریاست کے ساتھ ان کے تعلقات مثالی نہیں ہو سکتے یہ پتھر پر لکیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں