*خواتین کا عالمی دن تاریخ کے آئینے میں* تحریر ایم احسان قریشی

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
مرد ہو یا عورت اس معاشرے کی بنیادی اکائی ہے،مرد کے بغیر دنیا آباد نہیں ہوسکتی اور عورت کے بغیر معاشرے کا تصور ناممکن ہے۔
8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد مردوں کو خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے پیش قدمی کی ترغیب دینا ہے،بظاہر ہر سال 8 مارچ کو کچھ امیر گھروں کی فیشن ایبل خواتین جو اس دن سینمارز اور واکس منعقد کر کے خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتی ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی کی زینت بنی رہتی ہیں،کچھ دن بے نتیجہ ٹی وی پر ٹاک شو میں بحث و مباحثے بھی نظر آتے ہیں پھر اگلے سال مارچ تک منظر عام سے غائب رہ کر اگلے مارچ کیلئے نئی قراردادوں تیار کرتی ہیں مگر اس کی کہانی اتنی مختصر نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں اگر تاریخ کے اور اق کھولے جائیں تو پتا چلتا ہے آج سے تقریبا ایک سو بارہ سال قبل 1908ء کی بات ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں کپڑا بنانے اور سلائی کرنے والی فیکٹریوں میں مسلسل بارہ بارہ گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے دوران کم اور تنخواہ میں اضافے اور ووٹ کے حق کیلئے 15 ہزار کے قریب خواتین نے آواز بلند کی تو ان پر پولیس نے نا صرف تشدد کیا بلکہ ان خواتین کو گھوڑوں سے باندھ کر سڑکوں پر گھسیٹ کر خاموش کرنے کی کوشش بھی کی مگر خواتین نے ہمت نہیں ہاری اور جبر کے خلاف تحریک جاری رکھی جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی نے پہلی بار 28 فروری 1909ء کو وومن ڈے منایا،1910ء کو ڈنمارک میں خواتین کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 ممالک کی 100 سے زیادہ خواتین نے شرکت کی، اس کانفرنس میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنے اور ووٹ کا حق دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور اسی کانفرنس میں یہ ہر سال وومن ڈے منانے کی رائے بھی سامنے آئی۔
19 مارچ 1911ء کو پہلی بار وومن ڈے باقاعدہ طور پر منایا گیا جس میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی، سوئٹزرلینڈ سمیت کئی یورپی ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی،آسڑیا میں خواتین نے سڑکوں پر مارچ کیا اور ووٹ کے حق کے علاوہ سرکاری عہدوں پر خواتیں کو 50% کوٹے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف بھی آواز بلند کی جب کہ یہ دن امریکہ میں سال کے آخری اتوار کو منایا جاتا رہا،1960 میں اقوام متحدہ نے دنیا میں خواتیں کے حالات کے پر (Commissfon on the status of women) نام کی ایک کمشن تشکیل دی جس نے کہی سالوں کی جدوجہد کے بعد خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے متعلق اعلامیہ تیار کیا گیا،1967ء کو جنرل اسمبلی اجلاس میں اس اعلامیہ کی منظوری دی گئی،اس کمیشن کی کوششوں کے باعث بالآخر 1972 کے اجلاس میں 1975 کو کو خواتین کا عالمی سال قرار دیا گیا،جون کے آخری ہفتے میں میکسکو سٹی میں خواتین کی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا اس کانفرنس میں ہی 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرارر دیا گیا تھا۔
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے
آج مغرب اور مغرب پرست اسلام پر نکتہ چینی کرنے کیلئے اسلام کو خواتین کے حقوق میں رکاوٹ کہتے ہیں،ان کیلئے ایک غیر مسلم مفکرڈبلو الائیٹرکے ہوئے الفاظ کہ عورت کو جو تکریم اور عزت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی وہ مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب اسے کبھی نہ دے سکے۔
اسلام نے آج سے 14 سو قبل خواتین کو وہ تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق دیئے جو آج تک خواتین کے حقوق کے ٹھیکیدار بننے والے نہیں دے سکے اور وہ حقوق دینے میں ہمیشہ ہی ناکام رہیں گے،اسلام نے خواتین کو ہر روپ میں بلند مرتبے سے نوازہ،ماں، بہن، بیٹی،بیوی اور سب بڑھ کر انسان ہونے کے ناطے ماں کے روپ میں جنت،بیٹی کے روپ میں رحمت اور بیوی کے روپ میں نصف ایمان جیسے بلند مرتبے سے نوازہ گیا،عورت کو کیا مقام دیا گیا
قرآن کریم کی آیتوں اور بے شمار احادیث سے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
”لڑکیوں سے نفرت نہ کرو میں خود لڑکیوں کا باپ ہوں ”
قرآن کریم میں اللہ پاک فرما تے ہیں
اور ان (عورتوں کیلئے) کیلئے (حقوق ہیں) اس طرح جس طرح ان پر (خاوندوں کے حقوق ہیں) دستور کے مطابق۔
اسلام سے پہلے گھر میں بیٹی کے پیدائش کے خبر سن کر اس کو زمین میں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اس پر مالک کائنات نے اپنی کتاب قرآن کریم میں فرمایا
”یقینا گاٹے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی وجہ سے قتل کیا” سورہ الانعام 147
”حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس کے یہاں بچی ہوئی اور اسے (دور جاہلیت کی طرح) زندہ دفن نہیں کیا، نہ اس کو حقیر سمجھا اور نہ لڑکوں کو اس پر ترجیح دی تو ایسے شخص کو اللہ جنت میں داخل فرمائے گا”(ابو داود)
دریں اثناء لاتعداد آیات مبارک اور احادیث موجود ہیں اسلام سے قبل خواتین کے حقوق تو درکنار انہیں انسان تک نہیں مانا جاتا تھا اسلام ہی سے عورت کو یہ بلند مقام ملا ہے،ایک مرد پیدائش سے تادم مرگ تک عورت کی خدمت میں گزاردیتا ہے،یہ اسلام ہی کی تو تعلیمات ہیں اور اسلام سے زیادہ کوئی مذہب، کوئی معاشرہ عورت کو حقوق نہیں دے سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں