امریکی تاریخ کا سب سے بڑا 858 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور

امریکی سینیٹ نے ریکارڈ 858 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے اس کی سمری صدر بائیڈن کو بھجوا دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ رقم صدر بائیڈن کے تجویز کردہ دفاعی بجٹ کی رقم سے 45 ارب ڈالر زیادہ ہے جبکہ اس میں فوج کے لیے لازمی کووڈ ویکسین کے مینڈیٹ کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کو پیش کئے جانے والے اس بل یا نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی حمایت میں 83 جبکہ مخالفت میں 11ارکان نے ووٹ ڈالا۔
اس بل میں مالی سال 2023کے فوجی اخراجات کے لیے 858ارب ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جن میں فوجیوں کی تنخواہوں میں چار اعشاریہ چھ فیصد اضافے، ہتھیاروں، بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کی خریداری کے لیے بھی رقم رکھی گئی ہے جب کہ چین اور روس کے خطرات کا سامنا کرتے تائیوان اور یوکرین کی مالی مدد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
امریکی کانگریس 1961سے ہر سال یہ بل پاس کرتی ہے جو صدر کے دستخط سے قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سرکردہ رپبلکن سینیٹر جیمز انہوف نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ سب سے اہم بل ہے جو ہم ہر سال کرتے ہیں۔ اس بل کے تحت اگلے سال یوکرین کو کم از کم 800ملین ڈالر کی اضافی سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اور اس میں چین کے ساتھ تناؤ کے درمیان تائیوان کو مضبوط کرنے کے لیے کئی دفعات شامل ہیں، جن کے تحت تائیوان کو بھی اربوں ڈالر کی سکیورٹی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس بل میں ہائپرسونک ہتھیاروں کو تیار کرنے، ہوائی میں ریڈ ہل بلک فیول سٹوریج کی سہولت کو بند کرنے اور لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ایف 35لڑاکا طیاروں اور جنرل ڈائنامکس کے تیار کردہ بحری جہازوں سمیت ہتھیاروں کے نظام کی خریداری کے لیے مزید فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ امریکا کی دفاعی پالیسیوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر دفاعی بجٹ کا پاس کیا جانا ضروری ہے۔
رپبلکن ارکان جنہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کووڈ 19سے بچاؤ کے مختلف اقدامات شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نے اس مینڈیٹ کو نہ ہٹانے پر بل کی مخالفت کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والوں میں وہ لبرل ارکان شامل تھے، جنہیں ہر سال بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ پر اعتراض ہے جبکہ وہ معاشی قدامت پسند بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہیں جو اخراجات میں کمی لانے کے حامی ہیں۔ کوئی ووٹ ان لبرلز کے اختلاط سے نہیں ملے جو مسلسل بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ اور مالیاتی قدامت پسندوں پر اعتراض کرتے ہیں جو اخراجات پر سخت کنٹرول چاہتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان اور اب سینیٹ سے منظوری کے بعد اس بل کی اگلی منزل وائٹ ہاؤس ہو گا، جہاں صدر اس بل کی قانون میں تبدیلی پر مہر ثبت کرتے ہوئے اس پر دستخط کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *