5 دن سادہ کھانا، 2 دن روزہ رکھیں، ماہرین طب

ماہرین صحت نے موٹاپے اور وزن میں کمی کرنے کیلیے نیا فارمولا پیش کردیا جس کے مطابق ایسے افراد جو موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں ،وہ ایک ہفتے میں5دن سادہ کھانا کھائیں لیکن 2 دن روزے رکھ کر اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں، ایسے افراد جو روزے نہ رکھ سکیں وہ افراد 2دن کھانے میں انتہائی سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں۔ آسٹریلیا میں کی جانے والی نئی طبی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک کے سربراہ پروفیسر زمان شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ حال ہی میں موٹاپے یا وزن کی زیادتی کو کم کرنے کیلیے کی جانے والی نئی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران5 دن معمول کے مطابق سادہ کھانے کھائیں لیکن 2دن روزے رکھ لیں یا کھانے میں سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد وزن کی زیادتی والے افراد نے مرغن کھانے پینے میں احتیاط شروع کردی اور نارمل کھانے کے ساتھ ہفتہ میں2دن انتہائی سخت پرہیزشروع کردیا جس کے نتیجے میں وزن میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی ، ان کا کہنا تھا کہ ایک اور نئی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ شوگر کے وہ مریض جن کی شوگر خون میں حیرت انگیز طور پر بہت کم ہو جاتی تھی جس کو Hypo Glycemia کہاجاتا ہے، ایسے مریضوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے تھے اب ایسے ہائی پووالے مریضوں کے لیے ناک میں اسپرے کرنے والی نئی دوا دریافت کرلی گئی ،متاثرہ مریض ناک میں اسپرے کرکے خون میں شوگرکی مطلوبہ مقدارکو فوری بحال کرسکے گا۔ پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ یہ شوگرکے مریضوں کے لیے اچھی خوشخبری ہے کہ اب خون میں شوگرکی مقدارکم ہونے اورمطلوبہ مقدارکو فوری بحال کرنے کیلیے ناک میں اسپرے کیا جا سکے گا ، یہ اسپرے عنقریب پاکستان میں بھی دستیاب ہوگا۔
دریں اثنا پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ کراچی میں ذیابطیس او ر اس مرض پر ہونے والی عالمی تحقیق پر بین الاقوامی کانفرنس آئندہ ماہ منعقد کی جائے گی جس میں دنیا بھر سے ماہرین صحت شرکت کریں گے۔ کانفرنس کے چیئرمین اور معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ کے مطابق کانفرنس کے انعقادکا مقصد دنیا بھر میں نہ صرف ذیابطیس کے حوالے سے ہونے والی جدید تحقیق کو پیش کرنا ہے بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی سے مطابقت رکھنے والے جملہ مسائل کو زیر غور لاکراس کا حل پیش کرنا ہے۔ کانفرنس میں ہارمون ڈیزیز،ذیابطیس ،تھائی رائیڈ ڈس آرڈر،بچوں کے چھوٹے قد،ان فرٹیلیٹی، اسٹی رائیڈ پرابلم،وٹامن ڈی کی کمی،ہڈیوں کی کمزوری،خواتین میں غیر ضروری بالوں کی نشوونما اور موٹاپے سمیت دیگر بیماریوں پر روشنی ڈالی جائے گی،ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین اس حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق پیش کریں گے۔
انٹرنیشنل کانفرنس ان ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی کے پیٹرن پروفیسر ڈاکٹر صمد شیرا ہیں، کانفرنس سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی اورکالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کے تحت منعقد کی جارہی ہے جو یکم سے 2 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں امریکا، برطانیہ ، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر ،کینیڈا ودیگر ممالک سے ماہرین شرکت کریں گے۔
کانفرنس سے قبل ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی اورکانفرنس کا ہدف فیملی فزیشن میڈیکل آفیسر اور پوسٹ گریجویٹس ہوں گے۔ کی جائے گی جس میں دنیا بھر سے ماہرین صحت شرکت کریں گے، کانفرنس کے چیئرمین اور معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ کے مطابق کانفرنس کے انعقادکا مقصد دنیا بھر میں نہ صرف ذیابطیس کے حوالے سے ہونے والی جدید تحقیق کو پیش کرنا ہے بلکہ لوگوں کے طرزِ زندگی سے مطابقت رکھنے والے جملہ مسائل کو زیر غور لاکراس کا حل پیش کرنا ہے۔
کانفرنس میں ہارمون ڈیزیز،ذیابطیس ،تھائی رائیڈ ڈس آرڈر،بچوں کے چھوٹے قد،ان فرٹیلیٹی، اسٹی رائیڈ پرابلم،وٹامن ڈی کی کمی،ہڈیوں کی کمزوری،خواتین میں غیر ضروری بالوں کی نشوونما اور موٹاپے سمیت دیگر بیماریوں پر روشنی ڈالی جائے گی،ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین اس حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق پیش کریں گے،انٹرنیشنل کانفرنس ان ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی کے پیٹرن پروفیسر ڈاکٹر صمد شیرا ہیں۔ کانفرنس سرسید انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹک اینڈ انڈوکرینولوجی اورکالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کے تحت منعقد کی جارہی ہے جو یکم سے 2 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں امریکا، برطانیہ ، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر ،کینیڈا ودیگر ممالک سے ماہرین شرکت کریں گے، کانفرنس سے قبل ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی اورکانفرنس کا ہدف فیملی فزیشن میڈیکل آفیسر اور پوسٹ گریجویٹس ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں