154

ہم دیکھیں گے . بابر حیات

جناب عمران خان صاحب !
چلئے اس بات کو گولی ماریں کے آپ کیسے، کیوں اور کن کی وجہ سے وزیراعظم بننے جا رہے ہیں . اس بات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کے حکومت کے اس میدان میں آنے سے پہلے کس طرح سے اس میدان اور اس کی پچ کو تیار کیا گیا، کیسے آپ کے مقابلے میں آنے والے ہر کھلاڑی کو اس میدان کے راستے سے ہٹایا گیا؟ کس طرح میڈیا کے پرندوں کے پر کاٹے گئے اور آپ کے دشمن کیسے آپ کے دوست بنے کس طرح آپ ان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنانے کے لئے تیار ہوئے جن کے خلاف بقول آپ نے 22 سال کی جدوجہد کی اور پھر ان سب اگلے ہوؤں کو آپ نے نگلا.
پھر جس دن آپ نے میچ کھیلا، اس دن بھی ماحول کو آپ کے لئے کیسے سازگار بنایا گیا یہ سب نے دیکھا. لیکن اس ملک کے لئے اور اس کی بیمار جمہوریت کے لئے ہم آنکھیں بند کرنے کے لئے تیار ہیں. مطلوبہ اراکین کی تعداد حاصل کرنے کے لئے جیسے آپ کے پیار طیارے گھماتے رہے اور ستارے ملاتے رہے ہم اس کو بھی فراموش کر دیتے ہیں . اسلام آباد کے فائو سٹار ہوٹل میں قید آزاد پنچھیوں کو اور کراچی کے ان بھائیوں کی آپ سے ملاقاتوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں جن پر کبھی آپ نے را کا ایجینٹ اور زہرہ آپا کا قاتل کہا تھا.

ہم کچھ دیر کے لئے فاسٹ فارورڈ کا بٹن دباتے ہیں اور آپ کو وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منصب پر پہنچے ہوئے دیکھتے ہیں. اب ہم اپنی آنکھیں کھول دیکھیں گے، جی ہاں جناب عمران خان صاحب، ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، وہ دن کہ جس کا آپ نے بار بار وعدہ کیا، اس قوم کو ازبر یاد ہو گیا ہے، آپ کا ہر وعدہ….. اب آپ کپتان ہیں، جیتے ہوئے کپتان. چاروں صوبوں میں آپ کا طوطی بول رہا ہے. سب راستے صاف ہیں.

اب ہم دیکھیں گے کہ کیسے آپ کشکول توڑتے ہیں ، پاکستان کی دنیا کی آنکھوں میں عزت بحال کرتے ہیں، کیسے غیریب اور متوسط طبقے والوں کی زندگیاں بدلتے ہیں. وہ جو خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی امیدوں پر پورا اترتے ہیں. کیسے دہشت گردی کے ناسور سے اس ملک کو ہمیشہ کے لئے آزاد کرتے ہیں. کس طرح سے “دو نہیں ایک پاکستان” کے خواب کو حقیقت میں بدلتے ہیں. کیسے ایک کروڑ ملازمتی اور پچاس لاکھ گھر دیتے ہیں.

ہم دیکھیں گے کہ نیا پاکستان کے جس کا آپ بار بار ہم سے وعدہ کرتے رہے وہ کیا ہوگا. اس کی ابتدا کا اندازہ ہمیں آپ کی ٹیم سے ہو گا. جی جناب کپتان! آپ کی ٹیم، جس کا آپ ہم جیسے جاہلوں کو بار بار احساس دلاتے تھے کہ ٹیمیں کیسے بنتی ہیں.

خان صاحب، میدان تیار ہے، موسم آپ کے حق میں ہے، سلیکشن آپ کے اختیار میں ہے. تشریف لائیے اور وہ کر کے دکھائیے جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا. کیوں کے اب ہم آنکھیں بند نہیں کریں گے بلکہ ہم کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے…. اب فاسٹ فارورڈ کی کوئی گنجائش نہیں. اب آپ کو سب کچھ کر کے دکھانا ہے… وہ سب کچھ جس کا وعدہ آپ اس قوم سے 22 سالوں سے کر رہے ہیں. اب وعدے نبھانے کے سفر کا آغاز ہوا چاہتا ہے اور اس سفر میں ہم آنکھیں بند نہیں کریں گے…ہم دیکھیں گے!!!

اپنی رائے اس وٹس ایپ نمبر پر دیجئے: 03214999956

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں