27

ہریانہ، طالبہ اجتماعی زیادتی کیس: بھارتی فوجی ملوث

ہریانہ: بھارتی ریاست ہریانہ میں پوزیشن ہولڈر طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے تین ملزمان میں ایک بھارتی فوج کا اہلکار بھی شامل ہے۔

اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 19 سالہ طالبہ دسویں جماعت کی بہت ہونہار طالبہ تھی. اس نے میٹرک کے امتحان میں اپنے بورڈ سے ٹاپ کیا تھا. ٹاپ کرنے پر ذہین طالبہ کو بھارتی صدر کی جانب سے انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لعل نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فوج کا ایک اہلکار پنکج بھی ،پوزیشن ہولڈر طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی میں ملوث ہے. منوہر لعل کے مطابق پنکج نے دو دوستوں نشو اور منیش کے ساتھ مل کرایک کمرے میں طلبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا. یہ کمرہ ایک ٹیوب ویل سے ملحقہ تھا.

اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے. اس خصوصی تفتیشی ٹیم کی انچارج نازنین بھاسن نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ ٹیوب ویل کے مالک کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے. اس ٹیوب ویل کے مالک نے ملزمان کو کمرے کی چابی دی تھی. یہ وہی کمرہ ہے جہاں طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا. ملزمان اور زیادتی کا شکار لڑکی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

نازنین بھاسن کا مذید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں 100 سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے. جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچ پائے ہیں کہ اجتماعی زیادتی میں تین ملزمان ملوث ہیں. ان تین میں سے ایک بھارتی فوج کا اہلکار ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مقامی پولیس نے مختلف جگہوں پر چھاپے بھی مارے ہیں مگر تاحال کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں