57

چین کا فوجی ادارے پر پابندی لگانے پر امریکہ سے اظہارِ برہمی

بیجنگ: چین نے روسی جنگی سامان خریدنے پر امریکی پابندی پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین کو روس سے لڑاکا طیارے خریدنے سے روکنے سے باز رہے ورنہ امریکہ کو نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ چین روس سے ایس یو 35 جنگی طیارے اور زمین سے فضا تک مار کرنے والے ایس 400 میزائل خریدنا چاہتاہے.جبکہ یہ خریداری امریکا کی جانب سے اس روسی پابندی کے زمرے میں آتی ہے جو 2016ء میں روس کی جانب سے امریکی انتخابات میں مبینہ مداخلت اور یوکرین میں فوجی کارروائی کے بعد لگائی گئی ہے۔

چینی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا اس بابت کہنا ہے کہ اگر امریکا پابندی کے یہ احکامات منسوخ نہیں کرتا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین اس امریکی پابندی کوسخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

دوسری جانب ماسکو کی جانب سے بھی جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اصل میں امریکا روس کو اسلحے کی عالمی مارکیٹ سے دور رکھ کر آگ سے کھیل رہا ہے۔

روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ غیر تجارتی عمل، بین الاقوامی تجارت کے اصول و ضوابط کے خلاف ہے. دراصل امریکا اپنے حریف تجارتی ممالک کو اس مارکیٹ سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔

علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے 33 ایسے افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے جو روسی فوجی اور انٹیلی جنس سے وابستہ ہیں۔ ان میں روسی سفیر رابرٹ میولر بھی شامل ہیں. رابرٹ میولر پر 2016ء کے امریکی انتخابات میں مبینہ مداخلت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں