356

ووٹوں کی دوبارہ گنتی، کئی حلقوں میں بازی پلٹ سکتی ہے

لاہور: قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کئی حلقوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے جس سے کئی امیدوار بازی پلٹ سکتے ہیں. اس سے پہلے بھی چند حلقوں میں دوبارہ گنتی نے نتائج تبدیل کئے ہیں.
واضح رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں کئی حلقوں کے نتائج پر امیدواروں نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے جس کے بعد قومی وصوبائی اسمبلی کے کئی حلقوں پر دوبارہ گنتی کی جارہی ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 131 سے عمران خان سے شکست کھانے والے (ن) لیگ کے رہنما سعد رفیق کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جاری ہے۔

این اے 131 سے عمران خان نے 84 ہزار 131 ووٹ حاصل کئے جب کہ سعد رفیق کو 83 ہزار 633 ووٹ ملے۔

علاوہ ازیں مری کے حلقہ این اے 57 سے تحریک انصاف کے امیدوار صداقت عباسی سے ہارنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے جس پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ اس موقع پر آر او آفس کےباہر پولیس اور فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ این اے 43 خیبر، این اے 49 ٹانک، چنیوٹ میں این اے 100 ،این اے 108، این اے 106 فیصل آباد، این اے 154 اور 157 ملتان، این اے 13 مانسہرہ، این اے 230 بدین، این اے 22 مردان، این اے 12 بٹگرام،این اے 157 ملتان اور این اے 144 جھنگ کے 10 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کی جارہی ہے۔

لاہور میں ایاز صادق سے ہارنے والے علیم خان کی درخواست پر بھی این اے 129 میں دوبارہ گنتی کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں پی کے 91 اور 93 لکی مروت، پی کے 51 مردان، پی کے 29 بٹگرام، پی کے 87، 89، 90 بنوں، پی پی 108، 115 فیصل آباد، جھنگ میں پی پی 128کے 31 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جارہی ہے جب کہ ملتان کے حلقہ پی پی 212 پر بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے۔

x

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں