7,031

عمران خان پہلی ہی اننگز میں آؤٹ ہو گئے؟ شدید تنقید

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اب تک کئے گئے تمام فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ عمران خان پہلی ہی اننگز میں آؤٹ ہو گئے ہیں.
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ایوان میں انکی پہلی تقریر سے لیکر وزیراعلیٰ پنجاب کی نامزدگی اور تقریب حلف برداری سے لیکر کابینی کے اعلان تک ہر فیصلے پر کپتان کو بہت سے باؤنسرز کا سامنا ہے اور اس بر تنقید کے باؤنسرز اور یارکرز کروانے والوں میں وہ تجزیہ نگار بھی ہیں جو کچھ دن پہلے تک عمران خان کے گن گاتے تھے.

یہ بھی پڑھیں: عثمان بزدار 6 افراد کے قتل میں سزا یافتہ نکلے
ہارون رشید وزیراعلیٰ پنجاب کی نامزدگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان نے یہ سفید جھوٹ بولا ہے کہ عثمان بزدار کو اس لئے وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے کیونکہ وہ پسماندہ علاقے سے ہیں بلکہ انہیں جہانگیر ترین کی ایما پر وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا ہے اور اب وہ علیم خان کو سینئر وزیر بنا کر اپنے مقاصد حاصل کریں گے.ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا وزیراعلیٰ نہیں چاہئے جو کام کر کے دکھا سکے. انہوں نے جہانگیر ترین کے پارٹی میں کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پارٹی الیکشن میں بھی انکی کرپشن کے معاملات کو اٹھایااور عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈر کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ کرے.

ایاز امیر نے وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے بارے میں کہا کہ یہ غلطی نہیں بلکہ غلطان ہے. ایک ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے جو 40 دن پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہے. وہ اس قدر نااہل ہے کے تھصیل ناظم اور تین دفعہ ایم پے رہنے والے کا بیٹا ہونے کے باوجود اپنے گاؤں تک میں بجلی نہیں لا سکاتو وہ صوبے کے لئے کیا کرے گا. مجھے حیرانی ہے کہ عمران خان سے یہ فیصلے کون کروا رہا ہے. ایاز امیر نے تقریب حلف برداری میں عمران خان کے اٹکنے اور زبان لڑکھڑانے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اتنی اہم تقریب کی باقاعدہ تیاری کرنی چاہئے تھی، عمران خان نے اتنی بڑی تقریب کو مذاق بنا دیا.

کاشف عباسی نے بھی ایک نیوز شو میں نئی کابینہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پوری کابینہ میں سوائے ایک دو مشیروں کے کوئی ایسا نام نظر نہیں آرہا جو عمران خان کے بلند و بانگ دعووں کے مطابق ہو. مجھے تو یہ کابینہ مجبوری میں بنائی لگتی ہے. تحریک انصاف کے حقیقی ناموں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور سوائے اسد عمر کے کوئی وزیر بھی اپنے شعبے کی سوجھ بوجھ رکھتا دکھائی نہیں دیتا. ایسی ٹیم کے ساتھ مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان کوئی حقیقی تبدیلی لا پائیں گے.
یہ بھی پڑھیں: 20 رکنی وفاقی کابینہ کی منظوری دے دی گئی
ایاز امیر کا کہنا تھا کہ شفقت محمود کو اس کابینہ کا عرفان صدیقی بنا دیا گیا ہے، شیریں مزاری دفاع کے شعبے کی ماہر ہیں مگر انہیں انسانی حقوق کی وزارت دے کر کھڈے لائن لگا دیا ہے شاہ محمود قریشی نہ پہلے اچھے وزیرخارجہ تھے نہ اب اچھے وزیرخارجہ ثابت ہوں گے. ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کابینہ سے کوئی اچھی امید نہیں.

ہارون رشید نے عمران خان کے انتخاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم نے عمران خان کو ملک ٹھیک کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا خراب کرنے کے لئے نہیں اس لئے ہم چپ نہیں رہ سکتے. انہیں لگتا ہے کہ جہانگیر ترین نے پارٹی کو ٹیک اوور کر لیا ہے اور یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے.

معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کابینہ کے ناموں کو سن کر حیرانی ہوئی ہے اور عثمان بزدار کی نامزدگی پارٹی کی دوسری درجے کی قیادت خوش نہیں ہے اور تقریب حلف برداری میں کئی لوگوں نے ان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ آج عمران خان نے جو حلف اٹھاتے ہوئے غلطیاں کیں اس سے ان کے چاہنے والوں کو دکھ پہنچا اور ناقدین کو زیر لب مسکرانے کا موقع ملا.

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں