67

عطیہ کیے گئےاعضاء کی وجہ سے 4 افراد کینسر کا شکار

واشنگٹن: ایک کینسر زدہ خاتون نے مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کر دیے تھے. مگر ان عطیہ شدہ اعضاء کی وجہ سے مزید 4 افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئے. جن میں سے تین موت کے منہ میں جا چکے ہیں. یہ اپنی طرز کا ایک عجیب واقعہ ہے جس پر ماہرین خود بھی حیران و پریشان ہیں۔

امریکن جرنل آف ٹرانسپلانٹیشن میں شائع رپورٹ کے مطابق سنہء2007 میں ایک 53 سالہ خاتون فالج کی وجہ سے وفات پا گئیں. یہ خاتون اس بات سے بے خبر تھیں کہ وہ کینسرکے مرض میں مبتلا ہیں. تاہم خاتون کے دونوں گردے، جگر، دل اور پھیپھڑے پانچ افراد کو لگادیئے گئے۔ البتہ ڈاکٹروں نے ٹرانسپلانٹیشن سے پہلے اعضاء کے ٹیسٹ بھی کیے تھے مگران میں کینسر کا پتا نہیں چلایا جا سکا.

اعضاء کا عطیا پانے والے پانچ مریضوں میں سے ایک مریض تو اُسی وقت بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کرگیا. مگر چار افراد کو اعضاء لگادیے گئے. مذید براں ان چاروں افراد کوکینسر کا مرض لاحق ہوگیا۔ شروع میں تو چاروں مریض بظاہر بہتر نظر آئے مگر بعد میں ان میں کینسر کی علامات ظاہر ہونے لگیں. تقریبا 16 ماہ بعد پھیپھڑے وصول کرنے والی خاتون میں لمفی نالیوں میں کینسر کی شناخت ہوئی جس کی وجہ سے خاتون کا انتقال ہو گیا.

تاہم تمام مریضوں کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اعضاء عطیہ کرنے والی خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا تھیں. جو بعد ازاں ان مریضوں کے ڈی این اے میں شامل ہوگیا تھا۔ سال 2011ء میں جس خاتون کی جگر کی پیوند کاری کی گئی تھی. اس خاتون کے جگر میں بریسٹ کینسر کے خلیات دریافت ہوئے. جو کہ عطیہ دینے والی خاتون میں سرطان کی مذیدنشاندہی کرتے ہیں. ان خاتون کا بھی 2014ء میں انتقال ہو گیا۔

جس مریض میں گردے کی پیوند کاری کی گئی تھی. اس میں 2013ء میں کینسرکا انکشاف ہوا تھا. اس کا انتقال بھی اسی سال ہو گیا. اسی خاتون کا دوسرا گردہ 32 سالہ شخص کو عطیہ کیا گیا تھا اس شخص میں 2011ء میں بریسٹ کینسر کے خلیات دریافت ہوئے. تاہم اس شخص کا گردہ نکال دیا گیا. اس شخص کی کیموتھراپی، اور ادویات کے ذریعے علاج کیا گیا. اب وہ شخص کینسر سے محفوظ ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ عطیہ کردہ اعضا کے ذریعے کینسر کی منتقلی عمل میں‌آئے. لیکن یہ اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ ہے. اسی لیے ماہرین اب بھی اس کیس پر غوروخوض کررہے ہیں۔

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں