63

سیکیورٹی فنڈز: امریکا نے پاکستان کی فوجی امداد بحال کرنے پر غور شروع کر دیا.

واشنگٹن: واشنگٹن پوسٹ جو کہ ایک امریکی اخبار ہے نے رپورٹ پیش کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے سیکیورٹی فنڈز بحال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے. یہ امداد 300 ملین ڈالرز ہے جو کہ تقریبا 37 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں. گو کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے سے اُمید کی جا رہی ہے کہ پاک امریکا تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد ملے گی. مگریہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدمِ اعتماد کی فضاء ہےنیز دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے۔

امریکی حکومت میں اندر ہی اندر یہ خیال پنپ رہا ہے کہ چونکہ اب پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لینے پر رضامند ہے اس لیے ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ پاکستان کی لاکھوں ڈالر کی سیکیورٹی امداد بحال کر دی جائے. ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد روکنا ایک جارحانہ فیصلہ تھا.

ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض اعلیٰ ترین مشیروں کا ماننا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی امداد بحال کر دی جائے. ایک سابق امریکی سفیر برائے پاکستان کا واشنگٹن ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ درحقیقت پاکستان کی سیکیورٹی امداد کی معطلی ٹرمپ انتظامیہ کا سب سےجارحانہ فیصلہ تھا۔

امریکی حکام چاہے وہ موجودہ ہوں یا سابق ان کا یہی ماننا ہے کہ امداد کوروکنے سے پاکستان امریکا کے اثر و رسوخ کے تابع نہیں رہے گا جس کے امریکہ کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین عدمِ اعتماد کی صورتحال رہی ہے. لیکن اس بات سے انکار نہیں‌کیا جا سکتا کہ اس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں افراد کی قربانیاں دی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ پاکستان کی عمران خان کی حکومت کے ساتھ سختی و نرمی والی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے. تاہم وزیراعظم عمران خان، پاک امریکا تعلقات میں بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں. سیکیورٹی فنڈز کی بحالی سے موجودہ حکومت کے ساتھ نئے تعلقات کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ماہ کے شروع میں پاکستان کی فوجی امداد کو معطل کرنے کا ا اعلان کیا گیا تھا. اس اعلان کے بعد امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی جانب سے 2 ستمبر کو پاکستان کے 3 سو ملین ڈالر کے کولیشن سپورٹ فنڈز روک دیے گئے تھے۔ واضح رہے، امریکا پاکستان سے گزرنے والی نیٹو سپلائی کے بدلے میں پاکستانی حکومت کو یہ نقد رقم ادا کرتا ہے۔

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں