56

خلائی لفٹ کی تیاری کے لیے جاپان نے بڑا اعلان کردیا

ٹوکیو: خلا تک رسائی کے لیے خلائی لفٹ کا تصور برسوں‌ پرانا ہے۔ اب جاپان نے بہت سنجیدگی سے اس پر کام شروع کردیا ہے۔ جاپان کی ایک یونیورسٹی نے خلائی لفٹ کی تیاری کے حوالے سے اگلے ہفتے ایک انتہائی چھوٹے ماڈل کے تجربات انجام دیں گے۔ جس میں چھ سینٹی میٹر لمبے، تین سینٹی میٹر چوڑے اور اتنے ہی اونچے ایک ڈبے کو دس میٹر کے تار سے باندھا جائے گا۔ یہ تار دو چھوٹے مکعبی سیٹلائٹس سے جڑا ہوگا اور ڈبہ اس دوران حرکت کرے گا جسے ماہرین انتہائی غور سے نوٹ کریں گے۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ اگرچہ 2050 میں اس کی تعمیر شروع ہوگی لیکن پوری دنیا میں خلائی لفٹ کی تیاری کا یہ پہلا تجربہ ہوگا جس کا آغاز جاپان کررہا ہے۔

ترجمان کے مطابق خلائی لفٹ کے تحت ایک ایسے ہلکے پھلکے اور مضبوط تار کا تصور پیش کیا گیا تھا جس کا ایک سرا زمین سے جڑا ہوا ہو اور دوسرا خلا میں کسی چھوٹے شہابیے (پتھر) یا کسی سیٹلائٹ سے منسلک ہو اور اس کیبل پر کم وزنی گاڑیاں کسی لفٹ کی طرح اوپر اور نیچے آسکیں۔ اس طرح خلا تک رسائی بہت آسان ہوجائے گی۔ دوسری جانب ایک جاپانی کنسٹرکشن کمپنی اوبایاسی نے بھی اس میں دلچسپی لی ہے تاکہ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر 2050 تک خلائی سیڑھی کو کسی ٹھوس مرحلےتک پہنچایا جاسکے۔

فیس بک کے تبصرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں