46

خبردار! کاسمیٹکس میں موجود مضرِ صحت کیمیکلز، بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، تحقیق

ورجینیا: آج کل تقریباً ہر گزرتے دن کے ساتھ میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس میں شامل مضرِ صحت اجزا اور کیمیکلز کے بارے میں نئی نئی اور پریشان کُن باتیں منظرِ عام پرآتی رہتی ہیں. اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بے شمار بیوٹی پراڈکٹس، میک اپ اور دیگر کاسمیٹکس میں ایسے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جو خواتین کے جسم میں ہارمون کی خرابی کا باعث بنتے ہیں. یہ خطرناک کیمیکلز نہ صرف ہارمونز کا توازن بگاڑتے ہیں بلکہ خواتین میں بریسٹ کینسر اور امراضِ قلب کا خطرہ بھی بڑھا دیتے ہیں۔

اس تحقیق سے قبل بھی ایک اور تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ خواتین بال رنگنے کے لیے جو مختلف ہئیر ڈائی استعمال کرتی ہیں. ان بال رنگنے والی پراڈکٹس میں بھی ایسے بہت سے کیمیکل پائے جاتے ہیں جو خواتین میں بریسٹ کینسر کی بڑی وجہ بن رہے ہیں.

تاہم اب ڈاکٹر اینا پولاک جو کہ جارج میسن یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کی معاون پروفیسر ہیں، انہوں نے اور ان کی ٹیم نے درجنوں خواتین پر ایک تحقیق کی ہے۔اس تحقیق کے مطابق ایسی 143 خواتین کے پیشاب کا جائزہ لیا گیا جوکثرت سے میک اپ استعمال کرتی تھیں. ان خواتین کی عمریں 18 سے 44 سال کے درمیان تھیں۔ محقیقین کے مطابق میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس میں پیرابینس اور بینزوفینونس جیسے مضر کیمیکل ہوتے ہیں جوکے جسمانی ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں ایسے ہارمونز بھی شامل ہیں جو خواتین کے لیے ماں بننے کے لیے ضروری ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ تحقیق بذاتِ خود میک اپ کیمیکلز اور تولیدی صحت والے ہارمون کے درمیان تعلق بتانے والی اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے۔ مذید براں اس تحقیق سے صاف پتا چلتا ہے کہ میک اپ اور بیوٹی پراڈکٹس میں شامل کئی کیمیکلز واجزاء ،یووی فلٹرز تولیدی ہارمون کم کرتے ہیں. علاوہ ازیں دیگر کیمیائی اجزا اس صورتحال کومزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پیرابین نامی کیمیکل خواتین کے جسم میں ایسٹروجن ہارمون کا لیول بڑھا دیتے ہیں . اس ہارمون کی سطح اگر بڑھ جائے تو اس سے خواتین میں چھاتی (بریسٹ) کے کینسر کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے.

فیس بک کے تبصرے

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں